بنگلورو،14؍اگست(ایس او نیوز) ریاست میں سینکڑوں کی تعداد میں لڑکیوں کے گم ہونے کی رپورٹیں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے عدالت کو پیش کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق کرناٹک میں سالانہ چار ہزار افراد لاپتہ ہوتے ہیں ، ان میں سے 300نوجوان لڑکیاں ہیں، لڑکے بھی مجموعی گم شدہ افراد میں شامل ہیں۔
یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گم ہونے والی لڑکیوں میں سے 20فیصد تک مافیا کا شکار ہوجاتی ہیں اور انہیں مختلف غلط دھندوں میں لگادیا جاتا ہے۔ ان میں جسم فروشی ، بھیک مانگنا وغیرہ شامل ہے۔ 2018 کے ابتدائی چھ ماہ میں 220نوجوان لڑکیاں اب تک غائب ہوئی ہیں ان کے بارے میں کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ مجموعی طور پر گم شدہ چار ہزار افراد کے بارے میں بھی پولیس کچھ بھی پتہ نہیں لگا پائی۔
عدالت میں اس سلسلے میں جسٹس راگھویندرا چوہان اور جسٹس ایچ ٹی ناگیندرا پرساد پر مشتمل ڈویژنل بنچ کے روبرو پولیس نے حلف نامہ دائر کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ عین ممکن ہے کہ ان گم شدہ افراد میں سے اکثریت کو انسانی اسمگلنگ کا شکار بنایا گیا ہو۔لاپتہ لڑکوں اور لڑکیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے عدالت نے 17جولائی کو ریاستی پولیس کو ہدایت جاری کی تھی ، اس ہدایت کے بعد پولیس کی طرف سے کل عدالت میں حلف نامہ دائر کیاگیا، اس حلف نامے میں پولیس نے بتایاکہ 2018کے دوران اب تک 3551 افراد لاپتہ ہوئے ہیں ان 220نوجوان لڑکیاں ہیں اور1933 خواتین ہیں، 2017 میں 5168 افراد لاپتہ ہوئے ، ان میں سے2537 خواتین اور 321نوجوان لڑکیاں شامل ہیں۔ 2016میں 2478افراد لاپتہ ہوئے ، ان میں 1154، خواتین ، 132 لڑکیاں شامل ہیں۔
پچھلے چھ ماہ کے دوران ریاست میں گم شدگی کے 7013 معاملے درج ہوئے ۔ 2017 میں یہ تعداد 13544 رہی۔ اور 2016 میں 13312 تھی۔ ان میں سے بقیہ معاملوں میں گم شدہ افراد کے بارے میں پتہ چل گیا لیکن اب تک لاپتہ رہنے والے افراد کے بارے میں کوئی جانکاری پولیس کو نہیں ملی۔